PTN: Pakistan Tehreek Nizam




ہمارا منشور کیا ہے؟



ہماری تجویز کے مطابق ساختی تبدیلیاں بنائیں اس کے بعد ہم ان مقاصد کی طرف کام کریں گے



معاشرتی فلاح و بہبود/دولت کی تقسیم نو/شہری حقوق


۔ دولت کی منصفانہ تقسیم نو سرانجام دی جائے گی

۔ امیروں اورجاگیرداروں پرٹیکس کی موجودہ شرح کم کی جائے گی ۔ تاہم ٹیکس کی وصولی یقینی بنائی جائے گی۔

۔ دولت پر لگایا جانیوالا ٹیکس اوروہ لوگ جنھوں نے رقوم ادھارلیں لیکن پھرکبھی واپس نہیں کیں ان سے نکلوائی جانیوالی رقوم کو کم آمدن والے گھرانوں، خوراک، زرعی صنعت، بجلی، پیٹرول،اوردیگرمنصوبےجو قلیل اورطویل المدت فوائد کے حامل ہوں ، کیلئے مختلف سبسڈیز (امداد) دینے کیلئے استعمال کیا جائے گا

۔ یہ یقینی بنایا جائے گا کہ ہر فرد جو کم آمدن والے درجہ (کیٹیگری) میں ہے، وہ بھاری سبسڈی دی جانیوالی خوراک سے فائدہ اٹھا کرکھا پی سکے گا

۔ ہروہ شخص جو طبی علاج برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا اس کی دیکھ بھال یقینی بنائی جائے گی۔

۔ ہسپتالوں کی موجودہ صورتحال میں بہتری لائی جائیگی اور نئے ہسپتال تعمیر کیے جائیں گے

۔ یقین دہانی کرائی جائے گی کہ ہر شخص کے شہری حقوق کی حفاظت ہو۔

۔۔ اقربا پروری، معاشرتی درجات یا خاندانی پس منظر کے برعکس یہ یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی کہ لوگوں کوصرف اور صرف اہلیت کی بنیاد پر پرکھا جائے۔

۔۔ ڈاکٹراورنرسوں کو بہترطورپرملازمتیں سرانجام دینے اورخوش اخلاقی سے بات کرنے کی تربیت دی جائے گی۔ ان کی تنخواہیں ایک واضح فرق کے ساتھ بڑھائی جائیں گی۔

۔۔ توانائی کی صورتحال پرقابو پانے کےلئے طویل المدتی اور قلیل المدتی ہنگامی اقدامات کیے جائیں گے۔ فوری اقدامات میں بجلی پیدا کرنے کے لئے کوئلے، ہوا، سمندری لہروں اورسورج کی روشنی سے فائدہ اٹھانا شامل ہے۔اور پانی (ذخائر کے بنانے، دریاوں کی تعمیر و مرمت ،نئی نہروں کے بنانے اور ڈیمز کی

۔۔ نئے کاروباری سینٹرز (شہراورقصبے) قائم کرنے کے لئے جامع منصوبہ بندی کی جائے گی۔ اس سے دولت کی منصفانہ تقسیممیں مدد ملے گی اوردیہی سے شہری علاقوں کی جانب نقل مکانی میں کمی واقع ہو گی۔


بد عنوانی کا خاتمہ/قانون و انصاف کی صورتحال میں بہتری لانا


۔ وہ لوگ جو بد عنوانی کرچکے ہیں ان کا مکمل احتساب کیا جائے گا۔

۔ پاکستان سے چرائے گئے اربوں ڈالرجنھیں ملک کے اندر یا بیرون ملک کہیں غائب کر دیا گیا ہے واپس پاکستان لائے جائیں گے۔ وہ رقم جو بیرون ملک چھپائی گئی ہے،اکیلے ہی ہمارے معاشی مسائل کو حل کر دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بینکوں کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی جائے گی اور دیکھا جائےگا کہ کس نے قرض لیا ہے اور پھر واپس نہیں کیا۔ اس رقم کا سراغ لگایا جائے گا۔ رقم کا سراغ لگانے کیلئے تمام تر قانونی ذرائع اورطریقے استعمال کیے جائیں گے۔

۔ تمام قومی اکائونٹس کو شفاف رکھا جائے گا تاکہ ہر شخص ان کا جائزہ لے سکے اور سوالات کر سکے۔

۔ قومی سطح سے سب ڈویژن کی سطح تک تمام محکموں کے اکائونٹس کو آن لائن کیا جائے گا (ہر روزاپ ڈیٹ کیا جائے گا)۔ ہرشخص کی جب اور جہاں چاہے ان تک رسائی ہو گی۔

۔ تمام سورسنگ (خرید کی جانچ پڑتال کا طریقہ ) کا ریکارڈ آن لائن ہو گا۔ ہر اعلی درجے کے بیوروکریٹ کی تنخواہ اور ملازمتی ذمہ داریاں آن لائن موجود ہوں گی۔ یہ سب عوامی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا

۔ حکومت کی تمام جائیداد کی فہرست بنائی جائے گی۔ اس میں کسی قسم کی فروخت شفاف طریقے سے کی جائے گی اور تمام ریکارڈ آن لائن موجود ہو گا۔

۔ منتخب شدہ نمائندگان کو خرچ کرنے کیلئے کوئی رقم نہیں دی جائے گی کیونکہ اس سے وہ بد عنوان ہوجاتے ہیں۔

۔ نیب کو عدلیہ کے ماتحت کر دیا جائے گا۔ اور اسکےاعلی ترین عہدوں پرجوڈیشل کونسل ڈیوٹی پرموجود ججزکو متعین کرے گی۔ نیب یہ یقینی بنائے گا کہ ہردرجہ پر،ہرشخص کو اس کے افعال کی نسبت قابل احتساب ٹھرایا جائے

۔ بدعنوانی کے خلاف سخت ترین قوانین کو فعال اورلاگو کیا جائے گا۔ بدعنوانی کا سراغ لگانے کیلئے انٹر نیٹ اوردیگرذرائع استعمال کیے جائیں گے۔ بد عنوان لوگوں کو مثالی سزائیں دی جائیں گی۔

۔ (ہرڈویژن کی سطح پر) نئی پولیس فورس قائم کی جائے گی۔ پولیس والوں کی تنخواہیں دوگنی کی جائیں گی۔ نوجوان لوگوں کو اعلی تنخواہوں پر ملازمت دی جائے گی تاکہ وہ بد عنوانی کی سرگرمیوں سے دوررہیں۔ یقینی بنایا جائے گا کہ وہ پوری دلجمعی اورایمانداری کے ساتھ قوانین کا اطلاق کریں۔اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ پولیس کسی قسم کے سیاسی دبائو کے بغیر کام کرے۔

۔ عدلیہ کو مکمل آزاد بنایا جائے گا جس پرایگزیکٹیو برانچ کا کسی قسم کا کوئی اثر و رسوخ نہ پڑ سکے۔

۔۔ چند لوگوں کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ پورے ملک کو یرغمال بنا لیں۔ بلوچستان میں یہ جاننے کے لئے ایک ریفرنڈم کرایا جائے گا کہ وہ سرداری نظام چاہتےہیں یا نہیں۔ اگر نہیں تو سرداری نظام کو مکمل ختم کر دیا جائے گا۔ بلوچستان کےعلاقوں اورلوگوں کی ترقی کے لئےبھاری سرمایہ کاری کی جائے گی۔ اس صوبہ سے کمائی جانیوالی اسی ۸۰فیصد تک رقوم کی سرمایہ کاری دوبارہ انہی علاقوں میں کی جائے گی۔

۔ دہشت گردی سے متعلق بنیادی عناصر کو ہدف بنایا جائے گا۔ دہشت گردی کے پیچھے حقیقی وجوہات پر توجہ دی جائے گی اور ان کا ازالہ کیا جائے گا۔ اس مسئلہ کے حل کے لئے کثیرالپہلو حکمت عملی استعمال کی جائے گی۔


معاشی خوشحالی (مہنگائی پر قابو پانا) اور روزگار گار کے زیادہ مواقع پیدا کرنا


۔ آئی ایم ایف سے لئے گئے قرضے جلد از جلد ادا کیے جائیں گے تاکہ ہم ان کے دبائو سے جلد از جلد نجات حاصل کر سکیں۔

۔۔ زرعی شعبہ کو اولین ترجیح دی جائے گی تاکہ ہم ہاکستان کو صحیح معنوں میں ایک زرعی ملک بنا سکیں۔

۔ زرعی اور زمینی اصلاحات لائی جائیں گی ۔ جاگیرداروں کو مجبور کیا جائے گا کہ زمین چھوٹے کسانوں کو فروخت کریں تاکہ وہ بھی باعزت طور پر اپنا گزارہ کر سکیں۔ اسی طرح زمینیں کارپوریشنز کو بھی دی جائیں گی تاکہ وہ زرعی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ فوڈ پراسیسنگ صنعتیں قائم کر سکیں۔ اسطرح سے جاگیرداروں کے اثر و رسوخ کا بادل چھٹ جائے گا۔

۔ نجی سرمایہ کاری کے نظام کی حمایت کی جائے گی اور سرمایہ کاری کی حفاظت کی جائے گی تاکہ یہ نظام ملازمتیں پیدا کر سکے۔

۔ حقیقی جی ڈی پی کو مستقل طور پرسات(7) فیصد سے زائد رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی

۔ برآمدی پالیسی کو تبدیل کیا جائے گا تا کہ یقینی بنایا جا سکے کہ زرعی مصنوعات کو صرف اس وقت برآمد کیا جا ئے جب وہ وافر مقدارمیں موجود ہوں اور ویلیو ایڈڈ شکل میں میسر ہوں۔

۔ خوراک کی پراسیسنگ صنعت کی حوصلہ افزائی کی جائے گی تاکہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات بنائی جائیںاس سے روزگار کی صورتحال میں بہتری آ سکے گی۔

۔ کولڈ سٹوریج یا ٹھنڈے ذخائر تعمیر کیے جائیں گے تاکہ خوراک کی مصنوعات کی کمی اورموسم ختم ہونے کے باوجودان کی موجودگی یقینی بنائی جا سکے ۔

۔۔ مزدوری وہنرمندی میں اخراجات کو کم رکھتے ہوئے ہمارے اقتصادیمسابقتیفائدے کے حصول کے لئے ہرممکن کوشش کی جائے گی۔

۔۔ زیادہ سے زیادہ سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے کےلئےحکمت عملی کے ساتھ پانی کے ذخائرکی تعمیر کی جائے گی اور اسے سمندرمیں ضائع کرنے کے بجائے پیداواری استعمال کیا جائے گا۔اس سے سیلاب کی وجہ سے ہونے والی تباہ کاری میں بھی کمی آئے گی

۔۔ فاصلوں میں کمی لانے کےلئے انفراسٹرکچر کی تعمیرکی جائے گی اور اسے بہتر بنایا جائے گا تاکہ وقت اور توانائی کی بچت کی جا سکے

۔ برآمدات میں اضافہ کیلئے دیگر ممالک سے آزادانہ تجارت کے معاہدے کیے جائیں گے۔

۔۔ ہر ممکن طریقے سے برآمدات میں اضافہ کیا جائے گا۔ صنعت کاروں کوجدت و اختراح کے ساتھ اپنے ہی مابین مقابلہ بازی کے بجائے نئی مصنوعات سامنے لانے کے لئے حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ نئی منڈیاں تلاش کی جائیں گی

۔ سالانہ کیلنڈر مرتب کیا جائے گا جس میں مستقل طور پرزیادہ معاشی سرگرمیوں کے دن جیسا کہ مدرز ڈے وغیرہ کو شامل کیاجائے گا۔

۔ سفارتخانوں میں کمرشل شعبہ کو موثراندازمیں استعمال کیا جائے گا تا کہ سرمایہ کاری اوربرآمدات میں اضافہ ہو سکے۔

۔ صنعت کاری میں معیار کی ضمانت کو انتہائی درجہ کی ترجیح دی جائے گی۔

۔ دانشورانہملکیت کے حقوق کی حفاظت کےلئے ہر کوشش کی جائے گی۔

۔ صنعتیں جیسا کہ سیمینٹ،سٹیل، معدنیات، کیمیکل، کھادیں، فوڈ پراسیسنگ کی انتہائی حوصلہ افزائی کی جائے گی تاکہ دیگر ممالک پرانحصار نہ کرنا پڑے اوراخراجات کو کم کیا جا سکے۔

۔۔ سٹیٹ بینک کو مکمل طور پر خود مختار بنایا جائے گا اور اس کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ ایسی مالیاتی پالیسیاں تشکیل دے جن سے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو اوراشیاء کی فراہمی میں اضافہ کا باعث بنیں

۔ دفاعی پیداوار کیلئے نئی منڈیاں تلاش کی جائیں گی۔

۔ سیاحت کے محکمے کی کارکردگی دیگر ممالک کے محکموں کے برابر لائی جائے گیجہاں پر سیاحت بہت اچھیسطح پر ہے۔


خارجہ پالیسی


۔ خارجہ پالیسی کا از سر نوجائزہ لیا جائے گا، ہماری خارجہ پالیسی کا محور اسلامی ممالک ہوں گے نہ کہ انڈیا یا امریکہ ۔

۔ اسلامی ممالک کو ان کی کرنسی میں تجارت کا کہا جائے گا تاکہ وہ اپنی کرنسی کی اہمیت بڑھا سکیں۔

۔ کشمیر پالیسی: اس معاملہ کو غیر سیاسی شخصیات کے ذریعے پر امن ذرائع کی مدد سے اٹھایا جائے گا۔ اسے جنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور کی طرز پر حل کیا جائے گا۔ دنیا بھر میں شعور و آگہی کیلئے موثر اندازمیں مختلف میڈیا استعمال کیا جائے گا۔

۔ امریکہ، چین، انڈیا اور روس کے ساتھ تعلقات کو خصوصی ترجیح دی جائے گی،باہمی احترام، ، برابری اور خود مختیاری کی بنیاد پریہ تعلقات بہتر کیے جائیں گےاور بڑھائے جائیں گے۔

۔ آزاد، شفاف اورذمہ دار، صحافت کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اوراس کی ترویج کی جائے گی۔


تعلیم/جدت


۔۔ موجودہ سکولوں کی حالت بہتر کرنے اور جہاں ضرورت ہو وہاں نئے سکول کھولنے کےلئے تعلیم کے بجٹ میں جی ڈی پی کے پچیس فیصد کے برابراضافہ کیا جائے گا۔ طریقہ تدریس میں بہتری لائی جائے گی۔ ملک بھرمیں یکساں نصاب تعلیم رائج کیا جائے گا تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ تمام طالب علم ایک جیسی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جہاں ضروری ہو وہاں سکول بس، رکشہ کی خدمات مہیا کی جائیں گی۔

۔ سیکھیں اورکمائیں پروگرام متعارف کرائے جائیں گےتاکہ بچے کچھ کما کر اپنے خاندانوں کی مالی معاونت کرنے کے ساتھ ساتھ باقاعدگی سے تعلیمی نصاب پڑھیں اورمہارتیں سیکھتے رہیں۔

۔ اساتذہ کی باقاعدہ تربیت کی جائے گی اور ان کی تنخواہیں دوگنا کی جائیں گی تاکہ وہ بہتر انداز میں ملازمت کر سکیں۔

۔۔ اعلی تعلیم کو زیادہ اہمیت دی جائے گی ۔ پاکستان میں معروف غیر ملکی یونیورسٹیوں کے کیمپس قائم کیے جائیں گے تاکہ برین ڈرین (با صلاحیت لوگوں کی بیرون ملک منتقلی)سے گریز کیا جائےاور زرمبادلہ ضائع ہونے سے بچایا جا سکے

۔ تحقیق و اختراح کے شعبہ میں بھاری سرما یہ کاری کی جائے گی۔ تاکہ مقامی لوگوں کے استعمال اوربیرون ملک برآمد کےلئےاندرون ملک بنی ہوئی نئی مصنوعات سامنے لائیجا سکیں۔ اس سے معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی

۔ لوگوں کی کارکردگی کا معیاربڑھایا جائے گا تاکہ وہ زیادہ بارآوراور مسابقتی ثابت ہو سکیں۔


مذہب/ثقافت


۔ اسلامی اموراوراقلیتوں کےامورکو مناسب توجہ دی جائے گی

۔۔ پاکستانی ثقافت کو حقیقی معنوں میں فروغ دیا جائے گااور لوگوں کو اًگاہی دی جائے گی کہ ہمارے اور ہمارے ہمسایہ ممالک کی ثقافت میں کیا فرق ہے۔ یہ بھی بتایا جائے گا کہ پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ پر ہے۔ ہم اپنی موجودہ اورآنےوالی نسلوں کو اپنی اور ہمسایہ ملک کی ثقافت کے درمیان فرق کو ختم نہیں کرنے دے سکتے تا کہ ہم اپنی شناخت نہ کھو جائیں

۔۔ فلم اور تھیٹر کی صنعت میں سرمایہ کاری کی جائے گی تاکہ یہ اپنے قدموں پر کھڑی ہو سکے۔ پاکستانی سینما میں ہمسایہ ممالک کی فلموں کے بجائے پاکستانی فلمیں ہی چلائی جائیں گی۔

۔ بری عادات جیسا کہ صفائی نہ رکھنا ،دوسروں کے حقوق کا خیالنہ رکھنا، اقربا پروری وغیرہ کے خاتمہ کےلئے بڑے پیمانے پر معاشرتی ذہن سازی کی جائے گی۔


متفرقات


۔ سمندر پار پاکستانیوں کو حکمت عملی کے تحت ان کے رہائشی ممالک کی اندرونی سیاست میں شامل کیا جائے گاتاکہ وہ پاکستان اور اسلام کےلئے پالیسیوں پر مثبت اثرات ڈال سکیں۔

۔ موثر انداز میں ملک کی بہتری کیلئےبیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی خدمات سے استعفادہ حاصل کیا جائے گا۔

۔ آبادی کو قابو میں لانے کےلئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

۔۔ حکمت عملی کے تحت رضاکاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اوررضاکاروں کو نوازاجائے گا۔

۔ نچلی سچح پر جمہوریت کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ نوجوان لوگوں کو آگے بڑھ کر سیاست میں حصہ لینے کیلئے کہا جائے گا تاکہ ہرطبقہ اورہرعلاقہ سے راہنما سامنے آ سکیں۔

۔۔ محکمانہ کھیلوں کے بجائے بین الشہری کھیلوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اسطرح لوگ زیادہ دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں اورمقابلے کا معیار بھی بڑھتا ہے۔ نیا ٹیلینٹ سامنے اًئے گا۔ کھلاڑیوں کی مالی معاونت کےلئے کاروباری طبقہ کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ مختلف کھیلوں کیلئے زیادہ رقوم مختص کی جائیں گی۔ سب سے بہترین کارکردگی کے حامل کھلاڑیوں کو انعامات دیے جائیں گے۔ اسی طرح سپورٹس آرگنائزیشن کا درجہ وارنظام قائم کیا جا ئے گا

۔ میڈیا کی ایسے پروگرام نشر کرنے پرحوصلہ افزائی کی جائے گی جن میں پاکستانی ثقافت کو دکھایا جائےاور وہ پروگرام جو معاشرے میں برے عناصر تخلیق کرتے ہیں انہیں روکا جائے گا۔

۔ اسراف اورضیاع پر قابو پا کر دفاعی بجٹ کو ایک مناسب حد پر لایا جائے گا۔

۔۔ سرحد پرسلامتی ودفاع کی صورتحال میں بہتری لانے کےلئے سرحدی محافظوں کی تعداد میںپچاس فیصد اضافہ کیا جائے گااور ان کو زیادہ جدید سازوسامان سے لیس کیا جائے گا

۔ معاشی، سیاسی یا سماجی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والے قوانین میں انتہائی بنیادی تبدیلیاں لائیں جائیں گی۔

۔ ریلوے کی خدمات کے معیار میں بہتری لانے کیلئے اس میں مزید سرمایہ کاری کی جائے گی۔

۔ ماحول: جنگل، ہوا کے معیار، جنگلی حیات، دریا، جھیلوں کے معیار میں بہتری لائی جائے گی۔ ری سائیکلنگ کی ضرورت پڑے گی۔

۔ ہرماہ کے اختتام پرصدراوروزراءایک آزادانہ پریس کانفرنس کریں گےجس میں پاکستان کی سلامتی سے متعلق سوالات کے علاوہ، کسی اورسوال کے جواب سے انکار نہیں کیا جائے گا۔

۔ وفاقی سطح پر وزارتوں کی تعداد پندرہ سے بیس کی حد میں ہو گی۔ ہر وزارت کے نیچے محکموں کی تعداد بڑھائی جا ئے گی۔